کوئی دماغ سے کوئی شریر سے ہارا
میں اپنے ہاتھ کی اندھی لکیر سے ہارا
عبید الرحمان
یہی اک سانحہ کچھ کم نہیں ہے
ہمارا غم تمہارا غم نہیں ہے
عبید الرحمان
ٹوٹتا رہتا ہے مجھ میں خود مرا اپنا وجود
میرے اندر کوئی مجھ سے برسر پیکار ہے
عبید الرحمان
تلاشے جا رہے ہیں عہد رفتہ
زمینوں کی کھدائی ہو رہی ہے
عبید الرحمان
تعمیر و ترقی والے ہیں کہیے بھی تو ان کو کیا کہیے
جو شیش محل میں بیٹھے ہوئے مزدور کی باتیں کرتے ہیں
عبید الرحمان
صحبت میں جاہلوں کی گزارے تھے چند روز
پھر یہ ہوا میں واقف آداب ہو گیا
عبید الرحمان
شوخی کسی میں ہے نہ شرارت ہے اب عبیدؔ
بچے ہمارے دور کے سنجیدہ ہو گئے
عبید الرحمان
نظر میں دور تلک رہ گزر ضروری ہے
کسی بھی سمت ہو لیکن سفر ضروری ہے
عبید الرحمان
میرے جذبات آنسوؤں والے
شعر سب ہچکیوں سے لکھتا ہوں
عبید الرحمان

