سکوت شہر دل کی بے بسی کو بھی کوئی سمجھے
خامشی بولتی ہے تو بھلا کیا کیا نہیں کہتی
نیل احمد
پھولوں کی زد میں آ کے کہیں جان سے نہ جائے
میں نے اسی خیال سے تتلی اڑائی ہے
نیل احمد
قید کر لو مجھے خیالوں میں
اس جہاں سے رہائی مل جائے
نیل احمد
سارے جذبے تری چاہت کے دکھائی دیتے
کاش آنکھوں میں کہیں دل بھی دھڑکتا ہوتا
نیل احمد
سینے سے دل نکال کے ہاتھوں پہ رکھ دیا
میں نے تو بس کہا تھا کہ دھڑکن کا شور ہے
نیل احمد
سینے سے دل نکال کے ہاتھوں پہ رکھ دیا
میں نے تو بس کہا تھا کہ دھڑکن کا شور ہے
نیل احمد
یہ مختصر سی شکن کیا بتائے گی تم کو
مرے وجود میں گہری کئی خراشیں ہیں
نیل احمد
زندگی سے ملے ہوئے ہو تم
وہ بھی مجھ سے مذاق کرتی ہے
نیل احمد
یوں تو محبتوں میں بڑی قربتیں رہیں
لیکن جو دل سے پوچھو تو خلوت کمائی ہے
نیل احمد

