ستانا قتل کرنا پھر جلانا
وہ بے تعلیم کیا کیا جانتے ہیں
منور خان غافل
پروانے کے حضور جلایا نہ شمع کو
بلبل کے آگے پھول نہ توڑا گلاب کا
منور خان غافل
نکلا نہ داغ دل سے ہمارا تو کوئی کام
نہ وہ چراغ دیر نہ شمع حرم ہوا
منور خان غافل
مرتبہ معشوق کا عاشق سے بالا دست ہے
خار کی جا زیر پا گل کا مکاں دستار پر
منور خان غافل
لطف تب امرد پرستی کا ہے باغ خلد میں
پاس بیٹھے جبکہ غلماں اور کھڑی ہو حور دور
منور خان غافل
لیلۃ القدر ہے ہر شب اسے ہر روز ہے عید
جس نے مے خانہ میں ماہ رمضاں دیکھا ہے
منور خان غافل
کیا خبر ہے ہم سے مہجوروں کی ان کو روز عید
جو گلے مل کر بہم صرف مبارک باد ہیں
منور خان غافل
آ کے سجادہ نشیں قیس ہوا میرے بعد
نہ رہی دشت میں خالی مری جا میرے بعد
منور خان غافل
خط نویسی یہ ہے تو مشتاقو
ہاتھ اک دن قلم تمہارے ہیں
منور خان غافل

