تری رسوائی کا ہے ڈر ورنہ
دل کے جذبات تو محدود نہیں
معین احسن جذبی
میری عرض شوق بے معنی ہے ان کے واسطے
ان کی خاموشی بھی اک پیغام ہے میرے لیے
معین احسن جذبی
میری ہی نظر کی مستی سے سب شیشہ و ساغر رقصاں تھے
میری ہی نظر کی گرمی سے سب شیشہ و ساغر ٹوٹ گئے
معین احسن جذبی
ملے مجھ کو غم سے فرصت تو سناؤں وہ فسانہ
کہ ٹپک پڑے نظر سے مئے عشرت شبانہ
معین احسن جذبی
مختصر یہ ہے ہماری داستان زندگی
اک سکون دل کی خاطر عمر بھر تڑپا کیے
معین احسن جذبی
مسکرا کر ڈال دی رخ پر نقاب
مل گیا جو کچھ کہ ملنا تھا جواب
معین احسن جذبی
نہ آئے موت خدایا تباہ حالی میں
یہ نام ہوگا غم روزگار سہ نہ سکا
معین احسن جذبی
رستے ہوئے زخموں کا ہو کچھ اور مداوا
یہ حرف تسلی کوئی مرہم تو نہیں ہے
معین احسن جذبی
یوں بڑھی ساعت بہ ساعت لذت درد فراق
رفتہ رفتہ میں نے خود کو دشمن جاں کر دیا
معین احسن جذبی

