EN हिंदी
کرشن کمار طورؔ شیاری | شیح شیری

کرشن کمار طورؔ شیر

18 شیر

میں تو تھا موجود کتاب کے لفظوں میں
وہ ہی شاید مجھ کو پڑھنا بھول گیا

کرشن کمار طورؔ




یہ اسرار ہے ظاہر اس کے ہونے کا
منظر ہو یا پس منظر گہرا پانی

کرشن کمار طورؔ




وہ بھی مجھ کو بھلا کے بہت خوش بیٹھا ہے
میں بھی اس کو چھوڑ کے طورؔ نہال ہوا

کرشن کمار طورؔ




اس کو کھونا اصل میں اس کو پانا ہے
حاصل کا ہی پرتو ہے لا حاصل میں

کرشن کمار طورؔ




ان سے کیا رشتہ تھا وہ کیا میرے لگتے تھے
گرنے لگے جب پیڑ سے پتے تو میں رویا بہت

کرشن کمار طورؔ




سفر نہ ہو تو یہ لطف سفر ہے بے معنی
بدن نہ ہو تو بھلا کیا قبا میں رکھا ہے

کرشن کمار طورؔ




سب کا دامن موتیوں سے بھرنے والے
میری آنکھ میں بھی اک آنسو رکھنا تھا

کرشن کمار طورؔ




ساری عمر کسی کی خاطر سولی پہ لٹکا رہا
شاید طورؔ میرے اندر اک شخص تھا زندہ بہت

کرشن کمار طورؔ




میں وہم ہوں کہ حقیقت یہ حال دیکھنے کو
گرفت ہوتا ہوں اپنا وصال دیکھنے کو

کرشن کمار طورؔ