EN हिंदी
کشور ناہید شیاری | شیح شیری

کشور ناہید شیر

17 شیر

کون جانے کہ اڑتی ہوئی دھوپ بھی
کس طرف کون سی منزلوں میں گئی

کشور ناہید




ٹھنڈی رات اور ٹھنڈا بستر سکھی ری کانٹے آئے
لوگ کہیں جو دکھ سانجھے ہوں دل ہلکا ہو جائے

کشور ناہید




تپتے لمحے دہکتے چہرے سب کچھ دھیان میں لاؤں
پتی پتی چاہے توڑوں دل کا بوجھ ہٹاؤں

کشور ناہید




تکیہ بھیگا سانس بھی ڈوبی مرجھائی ہر آس
دل کو راہ پہ لانے کی ہر آس بنی سنیاس

کشور ناہید




تعلقات کے تعویذ بھی گلے میں نہیں
ملال دیکھنے آیا ہے راستہ کیسے

کشور ناہید




سوت کے کچے دھاگے جیسے رشتے پر اتراؤں
ساجن ہاتھ بھی چھو لیں تو میں پھول گلاب بن جاؤں

کشور ناہید




پریم کیا اور ساتھ نہ چھوٹا کیسے تھے وہ لوگ
ہم نے پیاروں کا اب تک دیکھا نہ سنجوگ

کشور ناہید




میں بہری تھی کاگا بولا سن نہ سکی سندیش
دل کہتا ہے کل آئیں گے پیا بدل کے بھیس

کشور ناہید




کچھ دن تو ملال اس کا حق تھا
بچھڑا تو خیال اس کا حق تھا

کشور ناہید