EN हिंदी
کوثر نیازی شیاری | شیح شیری

کوثر نیازی شیر

17 شیر

منجدھار میں ناؤ ڈوب گئی تو موجوں سے آواز آئی
دریائے محبت سے کوثرؔ یوں پار اتارا کرتے ہیں

کوثر نیازی




ضرور تیری گلی سے گزر ہوا ہوگا
کہ آج باد صبا بے قرار آئی ہے

کوثر نیازی




یہ درد کہ ہے تیری محبت کی امانت
مر جائیں گے اس درد کا درماں نہ کریں گے

کوثر نیازی




وہ مل نہ سکے یاد تو ہے ان کی سلامت
اس یاد سے بھی ہم نے بہت کام لیا ہے

کوثر نیازی




اس نے اخلاص کے مارے ہوئے دیوانے کو
ایک آوارہ و بد نام سا شاعر جانا

کوثر نیازی




تجھے کچھ اس کی خبر بھی ہے بھولنے والے
کسی کو یاد تیری بار بار آئی ہے

کوثر نیازی




تباہی کی گھڑی شاید زمانے پر نہیں آئی
ابھی اپنے کئے پر آدمی شرما ہی جاتا ہے

کوثر نیازی




پرکھنے والے مجھے دیکھ اس طرح بھی ذرا
اگر ہے کھوٹ تو کیسے چمک رہا ہوں میں

کوثر نیازی




میں نے ہر گام اسے اول و آخر جانا
لیکن اس نے مجھے لمحوں کا مسافر جانا

کوثر نیازی