EN हिंदी
حمیرا راحتؔ شیاری | شیح شیری

حمیرا راحتؔ شیر

18 شیر

نہ ہم سے عشق کا مفہوم پوچھو
یہ لفظ اپنے معانی سے بڑا ہے

حمیرا راحتؔ




ذکر سنتی ہوں اجالے کا بہت
اس سے کہنا کہ مرے گھر آئے

حمیرا راحتؔ




یہ کس کی یاد کی بارش میں بھیگتا ہے بدن
یہ کیسا پھول سر شاخ جاں کھلا ہوا ہے

حمیرا راحتؔ




وہ مجھ کو آزماتا ہی رہا ہے زندگی بھر
مگر یہ دل اب اس کو آزمانا چاہتا ہے

حمیرا راحتؔ




وہ عشق کو کس طرح سمجھ پائے گا جس نے
صحرا سے گلے ملتے سمندر نہیں دیکھا

حمیرا راحتؔ




وہ اور تھے کہ جو ناخوش تھے دو جہاں لے کر
ہمارے پاس تو بس اک جہان تھا نہ رہا

حمیرا راحتؔ




اسے بھی زندگی کرنی پڑے گی میرؔ جیسی
سخن سے گر کوئی رشتہ نبھانا چاہتا ہے

حمیرا راحتؔ




تعلق کی نئی اک رسم اب ایجاد کرنا ہے
نہ اس کو بھولنا ہے اور نہ اس کو یاد کرنا ہے

حمیرا راحتؔ




سنا ہے خواب مکمل کبھی نہیں ہوتے
سنا ہے عشق خطا ہے سو کر کے دیکھتے ہیں

حمیرا راحتؔ