تری تلاش ہے یا تجھ سے اجتناب ہے یہ
کہ روز ایک نئے راستے پہ چلتے ہیں
حفیظ ہوشیارپوری
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے
those that love you will not shrink
But I will be gone I think
حفیظ ہوشیارپوری
نظر سے حد نظر تک تمام تاریکی
یہ اہتمام ہے اک وعدۂ سحر کے لیے
حفیظ ہوشیارپوری
تمام عمر کیا ہم نے انتظار بہار
بہار آئی تو شرمندہ ہیں بہار سے ہم
حفیظ ہوشیارپوری
تمام عمر ترا انتظار ہم نے کیا
اس انتظار میں کس کس سے پیار ہم نے کیا
حفیظ ہوشیارپوری
ترے جاتے ہی یہ عالم ہے جیسے
تجھے دیکھے زمانہ ہو گیا ہے
حفیظ ہوشیارپوری
یہ دل کشی کہاں مری شام و سحر میں تھی
دنیا تری نظر کی بدولت نظر میں ہے
حفیظ ہوشیارپوری
زمانے بھر کے غم یا اک ترا غم
یہ غم ہوگا تو کتنے غم نہ ہوں گے
your sorrow or a world of pain
if this be there none will remain
حفیظ ہوشیارپوری
یہ تمیز عشق و ہوس نہیں ہے حقیقتوں سے گریز ہے
جنہیں عشق سے سروکار ہے وہ ضرور اہل ہوس بھی ہیں
حفیظ ہوشیارپوری

