مرے وجود کو پرچھائیوں نے توڑ دیا
میں اک حصار تھا تنہائیوں نے توڑ دیا
فاضل جمیلی
زیادہ دیر اسے دیکھنا بھی ہے فاضلؔ
اور اپنے آپ کو تھوڑا سا کم بھی رکھنا ہے
فاضل جمیلی
زندگی ہو تو کئی کام نکل آتے ہیں
یاد آؤں گا کبھی میں بھی ضرورت میں اسے
فاضل جمیلی
تم کبھی ایک نظر میری طرف بھی دیکھو
اک توقع ہی تو ہے کوئی گزارش تو نہیں
فاضل جمیلی
سفید پوشیٔ دل کا بھرم بھی رکھنا ہے
تری خوشی کے لیے تیرا غم بھی رکھنا ہے
فاضل جمیلی
سب اپنے اپنے دیوں کے اسیر پائے گئے
میں چاند بن کے کئی آنگنوں میں اترا ہوں
فاضل جمیلی
پرانے یار بھی آپس میں اب نہیں ملتے
نہ جانے کون کہاں دل لگا کے بیٹھ گیا
فاضل جمیلی
مدت کے بعد آج میں آفس نہیں گیا
خود اپنے ساتھ بیٹھ کے دن بھر شراب پی
فاضل جمیلی
مثال شمع جلا ہوں دھواں سا بکھرا ہوں
میں انتظار کی ہر کیفیت سے گزرا ہوں
فاضل جمیلی

