تمام عمر ہوا کی طرح گزاری ہے
اگر ہوئے بھی کہیں تو کبھو کبھو ہوئے ہم
فہیم شناس کاظمی
زندگی اب تو مجھے اور کھلونے لا دے
ایسے خوابوں سے تو میں دل نہیں بہلا سکتا
فہیم شناس کاظمی
زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیا
تمہارے بعد زمان و مکاں کو چھوڑ دیا
فہیم شناس کاظمی
یوں جگمگا اٹھا ہے تری یاد سے وجود
جیسے لہو سے کوئی ستارہ گزر گیا
فہیم شناس کاظمی
وہ جس کے ہاتھ سے تقریب دل نمائی تھی
ابھی وہ لمحۂ موجود میں نہیں آیا
فہیم شناس کاظمی
اسی نے چاند کے پہلو میں اک چراغ رکھا
اسی نے دشت کے ذروں کو آفتاب کیا
فہیم شناس کاظمی
اس کے لبوں کی گفتگو کرتے رہے سبو سبو
یعنی سخن ہوئے تمام یعنی کلام ہو چکا
فہیم شناس کاظمی
تمہاری یاد نکلتی نہیں مرے دل سے
نشہ چھلکتا نہیں ہے شراب سے باہر
فہیم شناس کاظمی
تیری گلی کے موڑ پہ پہنچے تھے جلد ہم
پر تیرے گھر کو آتے ہوئے دیر ہو گئی
فہیم شناس کاظمی

