EN हिंदी
عزیز حیدرآبادی شیاری | شیح شیری

عزیز حیدرآبادی شیر

25 شیر

صحبت غیر سے بچئے بچئے
دیکھیے دیکھیے رسوائی ہے

عزیز حیدرآبادی




حسن ہے داد خدا عشق ہے امداد خدا
غیر کا دخل نہیں بخت ہے اپنا اپنا

عزیز حیدرآبادی




کوئی رسوا کوئی سودائی ہے
اک جہاں آپ کا شیدائی ہے

عزیز حیدرآبادی




مشکل ہے امتیاز عذاب و ثواب میں
پیتا ہوں میں شراب ملا کر گلاب میں

عزیز حیدرآبادی




نالے ہیں نہ آہیں ہیں نہ رونا نہ تڑپنا
بے خود ہوں تری یاد میں فرصت کے دن آئے

عزیز حیدرآبادی




نسریں میں یہ مہک ہے نہ یہ نسترن میں ہے
بوئے گل مراد ترے پیرہن میں ہے

عزیز حیدرآبادی




شیشے کھلے نہیں ابھی ساغر چلے نہیں
اڑنے لگی پری کی طرح بو شراب کی

عزیز حیدرآبادی




وہ سنیں یا نہ سنیں نالہ و فریاد عزیزؔ
آپ ہرگز نہ کریں ترک تقاضا اپنا

عزیز حیدرآبادی




زور قسمت پہ چل نہیں سکتا
خامشی اختیار کرتا ہوں

عزیز حیدرآبادی