جس رات کھلا مجھ پہ وہ مہتاب کی صورت
وہ رات ستاروں کی امانت ہے سحر تک
اظہرنقوی
تیرا ہی رقص سلسلہ عکس خواب ہے
اس اشک نیم شب سے شب ماہتاب تک
اظہرنقوی
رات بھر چاند سے ہوتی رہیں تیری باتیں
رات کھولے ہیں ستاروں نے ترے راز بہت
اظہرنقوی
پھر ریت کے دریا پہ کوئی پیاسا مسافر
لکھتا ہے وہی ایک کہانی کئی دن سے
اظہرنقوی
پتھر جیسی آنکھوں میں سورج کے خواب لگاتے ہیں
اور پھر ہم اس خواب کے ہر منظر سے باہر رہتے ہیں
اظہرنقوی
کناروں سے جدا ہوتا نہیں طغیانیوں کا دکھ
نئی موجوں میں رہتا ہے پرانے پانیوں کا دکھ
اظہرنقوی
خواب مٹھی میں لیے پھرتے ہیں صحرا صحرا
ہم وہی لوگ ہیں جو دھوپ کے پر کاٹتے ہیں
اظہرنقوی
خوف ایسا ہے کہ ہم بند مکانوں میں بھی
سونے والوں کی حفاظت کے لئے جاگتے ہیں
اظہرنقوی
کل شجر کی گفتگو سنتے تھے اور حیرت میں تھے
اب پرندے بولتے ہیں اور شجر خاموش ہیں
اظہرنقوی

