مرے شوق سیر و سفر کو اب نئے اک جہاں کی نمود کر
ترے بحر و بر کو تو رکھ دیا ہے کبھی کا میں نے کھنگال کے
اسلم محمود
یہی نہیں کہ کسی یاد نے ملول کیا
کبھی کبھی تو یونہی بے سبب بھی روئے ہیں
اسلم محمود
وہ درد ہوں کوئی چارہ نہیں ہے جس کا کہیں
وہ زخم ہوں کہ ہے دشوار اندمال مرا
اسلم محمود
تیرے کوچے کی ہوا پوچھے ہے اب ہم سے
نام کیا ہے کیا نسب ہے ہم کہاں کے ہیں
اسلم محمود
تیغ نفس کو بہت ناز تھا رفتار پر
ہو گئی آخر مرے خوں میں نہا کر خموش
اسلم محمود
تمام عمر جسے میں عبور کر نہ سکا
درون ذات مرے بے کنار سا کچھ ہے
اسلم محمود
رک گیا آ کے جہاں قافلۂ رنگ و نشاط
کچھ قدم آگے ذرا بڑھ کے مکاں ہے میرا
اسلم محمود
رات آتی ہے تو طاقوں میں جلاتے ہیں چراغ
خواب زندہ ہیں سو آنکھوں میں جلاتے ہیں چراغ
اسلم محمود
پاؤں اس کے بھی نہیں اٹھتے مرے گھر کی طرف
اور اب کے راستہ بدلا ہوا میرا بھی ہے
اسلم محمود

