EN हिंदी
اصغر مہدی ہوش شیاری | شیح شیری

اصغر مہدی ہوش شیر

18 شیر

جو سائے بچھاتے ہیں پھل پھول لٹاتے ہیں
اب ایسے درختوں کو انسان کہا جائے

اصغر مہدی ہوش




ذکر اسلاف سے بہتر ہے کہ خاموش رہیں
کل نئی نسل میں ہم لوگ بھی بوڑھے ہوں گے

اصغر مہدی ہوش




ٹوٹ کر روح میں شیشوں کی طرح چبھتے ہیں
پھر بھی ہر آدمی خوابوں کا تمنائی ہے

اصغر مہدی ہوش




ساغر نہیں کہ جھوم کے اٹھے اٹھا لیا
یہ زندگی کا بوجھ ہے مل کر اٹھائیے

اصغر مہدی ہوش




مٹی میں کتنے پھول پڑے سوکھتے رہے
رنگین پتھروں سے بہلتا رہا ہوں میں

اصغر مہدی ہوش




میرے ہی پاؤں مرے سب سے بڑے دشمن ہیں
جب بھی اٹھتے ہیں اسی در کی طرف جاتے ہیں

اصغر مہدی ہوش




کیا ستم کرتے ہیں مٹی کے کھلونے والے
رام کو رکھے ہوئے بیٹھے ہیں راون کے قریب

اصغر مہدی ہوش




خدا بدل نہ سکا آدمی کو آج بھی ہوشؔ
اور اب تک آدمی نے سیکڑوں خدا بدلے

اصغر مہدی ہوش




کھو گئی جا کے نظر یوں رخ روشن کے قریب
جیسے کھو جاتی ہے بیوہ کوئی دلہن کے قریب

اصغر مہدی ہوش