جیسے شبد میں ارتھ ہے جیسے آنکھ میں نیر
ایسے تجھ میں بسا ہوا وہ محفل کا میر
عقیل شاداب
زندگی مجھ کو مری نظروں میں شرمندہ نہ کر
مر چکا ہے جو بہت پہلے اسے زندہ نہ کر
عقیل شاداب
زندگی جس کے تصور میں بسر کی ہم نے
ہائے وہ شخص حقیقت میں کہانی نکلا
عقیل شاداب
یہ اور بات کہ وہ اب یہاں نہیں رہتا
مگر یہ اس کا بسایا ہوا مکان تو ہے
عقیل شاداب
تھا جس پہ میری زندگی کا انحصار
اسی کا نام دھیان میں نہیں رہا
عقیل شاداب
شاید کوئی کمی میرے اندر کہیں پہ ہے
میں آسماں پہ ہوں مرا سایہ زمیں پہ ہے
عقیل شاداب
مجھے کسی نے سنا ہی نہیں توجہ سے
میں بد زبان صدائے کرخت ہوں شاید
عقیل شاداب
مری تلاش میں ہے کوئی ایسا لگتا ہے
کسی کا گم شدہ شادابؔ رخت ہوں شاید
عقیل شاداب
میں اپنے آپ کو کس طرح سنگسار کروں
مرے خلاف مرا دل اگر گواہی دے
عقیل شاداب

