کسی کی برق نظر سے نہ بجلیوں سے جلے
کچھ اس طرح کی ہو تعمیر آشیانے کی
انور تاباں
یہ یقیں ہے کی میری الفت کا
ہوگا ان پر اثر کبھی نہ کبھی
انور تاباں
تو اس نگاہ سے پی وقت مے کشی تاباںؔ
کی جس نگاہ پہ قربان پارسائی ہو
انور تاباں
تمہیں دل دے تو دے تاباںؔ یہ ڈر ہے
ہمیشہ کو تمہارا ہو نہ جائے
انور تاباں
سکون قلب کو جس سے مل جائے تاباںؔ
غزل کوئی ایسی سنا دیجئے گا
انور تاباں
ستم بھی مجھ پہ وہ کرتا رہا کرم کی طرح
وہ مہرباں تو نہ تھا مہربان جیسا تھا
انور تاباں
شغل تھا دشت نوردی کا کبھی اے تاباںؔ
اب گلستاں میں بھی جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے
انور تاباں
شاید آ جائے کبھی دیکھنے وہ رشک مسیح
میں کسی اور سے اس واسطے اچھا نہ ہوا
انور تاباں
سمجھ سے کام جو لیتا ہر ایک بشر تاباںؔ
نہ ہاہا کار ہی مچتے نہ گھر جلا کرتے
انور تاباں

