EN हिंदी
اکبر حمیدی شیاری | شیح شیری

اکبر حمیدی شیر

18 شیر

کہیں تو حرف آخر ہوں میں اکبرؔ
کسی کا نقطۂ آغاز ہوں میں

اکبر حمیدی




یہ عکس آب ہے یا اس کا دامن رنگیں
عجیب طرح کی سرخی سی بادبان میں ہے

اکبر حمیدی




وہ بھی دن تھا کہ ترے آنے کا پیغام آیا
تب مرے گھر میں قدم باد صبا نے رکھا

اکبر حمیدی




رات دن پھر رہا ہوں گلیوں میں
میرا اک شخص کھو گیا ہے یہاں

اکبر حمیدی




نفس نفس ہو صبا کی طرح بہار انگیز
افق افق گل ہستی مہک مہک جائے

اکبر حمیدی




لباس میں ہے وہ طرز تپاک آرائش
جو انگ چاہے چھپانا جھلک جھلک جائے

اکبر حمیدی




کوئی نادیدہ انگلی اٹھ رہی ہے
مری جانب اشارہ ہو رہا ہے

اکبر حمیدی




کتنا مان گمان ہے دینے والے کو
درد دیا ہے اور مداوا روک لیا

اکبر حمیدی




کسی کو اپنے سوا کچھ نظر نہیں آتا
جو دیدہ ور ہے طلسم نظر سے نکلے گا

اکبر حمیدی