EN हिंदी
ابو الحسنات حقی شیاری | شیح شیری

ابو الحسنات حقی شیر

8 شیر

بے نیاز دہر کر دیتا ہے عشق
بے زروں کو لعل و زر دیتا ہے عشق

ابو الحسنات حقی




جانے کیا صورت حالات رقم تھی اس میں
جو ورق چاک ہوا اس کو دوبارا دیکھیں

ابو الحسنات حقی




میں قتل ہو کے بھی شرمندہ اپنے آپ سے ہوں
کہ اس کے بعد تو سارا زوال ہے اس کا

ابو الحسنات حقی




میری وحشت بھی سکوں نا آشنا میری طرح
میرے قدموں سے بندھی ہے ذمہ داری اور کیا

ابو الحسنات حقی




وہ آ رہا تھا مگر میں نکل گیا کہیں اور
سو زخم ہجر سے بڑھ کر عذاب میں نے دیا

ابو الحسنات حقی




وہ کشتی سے دیتے تھے منظر کی داد
سو ہم نے بھی گھر کو سفینہ کیا

ابو الحسنات حقی




یہ بات الگ ہے کسی دھارے پہ نہیں ہے
دنیا کسی کمزور اشارے پہ نہیں ہے

ابو الحسنات حقی




یہ سچ ہے اس سے بچھڑ کر مجھے زمانہ ہوا
مگر وہ لوٹنا چاہے تو پھر زمانہ بھی کیا

ابو الحسنات حقی