ساحل کے سکوں سے کسے انکار ہے لیکن
طوفان سے لڑنے میں مزا اور ہی کچھ ہے
آل احمد سرور
جو ترے در سے اٹھا پھر وہ کہیں کا نہ رہا
اس کی قسمت میں رہی در بدری کہتے ہیں
آل احمد سرور
کچھ تو ہے ویسے ہی رنگیں لب و رخسار کی بات
اور کچھ خون جگر ہم بھی ملا دیتے ہیں
آل احمد سرور
لوگ مانگے کے اجالے سے ہیں ایسے مرعوب
روشنی اپنے چراغوں کی بری لگتی ہے
آل احمد سرور
مے کشی کے بھی کچھ آداب برتنا سیکھو
ہاتھ میں اپنے اگر جام لیا ہے تم نے
آل احمد سرور
تمہاری مصلحت اچھی کہ اپنا یہ جنوں بہتر
سنبھل کر گرنے والو ہم تو گر گر کر سنبھلے ہیں
آل احمد سرور
یہ کیا غضب ہے جو کل تک ستم رسیدہ تھے
ستم گروں میں اب ان کا بھی نام آیا ہے
آل احمد سرور
وہ تبسم ہے کہ غالبؔ کی طرح دار غزل
دیر تک اس کی بلاغت کو پڑھا کرتے ہیں
آل احمد سرور
جہاں میں ہو گئی نا حق تری جفا بد نام
کچھ اہل شوق کو دار و رسن سے پیار بھی ہے
آل احمد سرور

